Moulana Abu Mohammed of Pakistan forbids photography as a career

Fatwa Question or Essay Title: 
On the im/permissibility of being employed as a photographer:
Websites and Institutions: 
Markaz-e-Jamiat Ahlehadith, (Lahore, Pakistan)

[Summary]--According to ahadith (reported saying and deeds of the Prophet) attributed to Ibn Abbas, in general taking pictures is prohibited and therefore the job of photography, or being a photographer, is also prohibited. Furthermore, photographing humans is also not permissible. However if the photograph consists of inanimate objects such as trees etc. this is permissible. The occupation of photography however is still forbidden.

احکام و مسائل فوٹوگرافی کا پیشہ کرنا شرعاً کیا حیثیت رکھتا ہے؟ جبکہ آج تصویر ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ قرآن و سنت کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟ ( عبدالوہاب۔ ملتان ) شریعت میں تصویر کشی حرام ہے، اس بناءپر فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنا بھی حرام ہے، حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سنگین عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔ ( صحیح بخاری، اللباس: 5954 ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ ! میری معیشت میرے ہاتھ کا ہنر ہے اور میں تصاویر بنا کر فروخت کرتا ہوں، یہی میرا ذریعہ معاش ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تجھے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جس نے بھی کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے اس وقت تک عذاب سے دوچار رکھے گا، جب تک وہ شخص اپنی بنائی تصویر میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکے گا۔ “ وہ آدمی یہ حدیث سن کر کانپ اٹھا اور اس کا رنگ فق ہو گیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تیرا اور کوئی ذریعہ معاش نہ ہو تو ایسی چیزوں کی تصویریں بنا جس میں روح نہ ہو مثلا درخت وغیرہ۔ ( صحیح بخاری، البیوع: 2225 ) امام بخاری نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ” ان تصاویر کی خرید و فروخت جن میں روح نہ ہو۔ “ ( بخاری، البیوع باب نمبر 104 ) ہمارے ہاں جو فوٹوگرافی کا پیشہ کرتے ہیں وہ انسانوں کی تصویریں بناتے ہیں، اس لئے یہ پیشہ شرعاً درست نہیں ہے البتہ ایسی چیزوں کی تصاویر بنانا اور اسے بطور پیشہ اختیار کرنا جائز ہے جن میں روح نہ ہو جیسا کہ حدیث کے آخر میں وضاحت ہے اگر تم تصاویر بنانا ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی تصویر بنا سکتے ہو جس میں روح نہ ہو، ہماری مجبوری اور تصویر کا زندگی کے لئے جزو بن جانا ایک الگ موضوع ہے، لیکن اس سے یہ بات کشید نہیں کی جا سکتی کہ تصویر کشی کو بطور پیشہ اختیار کرنا جائز ہے۔ ( واللہ اعلم )