Markaz-e-Jamiat Ahlehadith of Pakistan on the impermissibility of seeking abortion due to a failing marriage

Fatwa, posted 4.22.2010, from Pakistan, in:
Fatwa Question or Essay Title: 
On the impermissibility of seeking abortion due to a failing marriage:
Websites and Institutions: 
Markaz-e-Jamiat Ahlehadith, (Lahore, Pakistan)

Question: A woman's in-laws have kicked her out of their house during her fifth month of pregnancy and they have warned her that they will take the child from her once it is born. They [the in-laws] have also told her that they will give her a divorce once she has delivered the child. Is an abortion legal under these circumstances?

Answer: Islam has never permitted any action done out of urgency without reason or [rational] thought. Abu Mohammed Abd Al Sattar instructs that first an elder should talk to the son if it is his fault in the situation or with the parents to counsel them to come to a better outcome. However, the abortion is not allowed in Islam especially after the fourth month because after that time abortion is considered manslaughter.

However, he says that if one can prove that continuing the pregnancy will end up in killing the child, or if a proper doctor can diagnose such, then abortion is allowed. However, in the case of this question he asks the woman to be patient and make use of social constructs to solve the situation. Abortion is not an option here.

[Note: abridged answer. Please see fatwa URL for complete text].

احکام و مسائل میری لڑکی کو سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا ہے جبکہ وہ پانچ ماہ کی حاملہ ہے اور دھمکی بھی دی ہے کہ ہم نے صرف بچہ حاصل کرنا ہے، اس کے بعد ہم نے اسے طلاق دے دینی ہے، کیا اس صورت میں بچی کا حمل ضائع کیا جا سکتا ہے تا کہ اس کا آگے نکاح کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ( بشری۔ مانسہرہ ) جواب دین اسلام میں جذبات میں آ کر کسی قسم کے فیصلے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اگر پانچ ماہ کی حاملہ بچی کو سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا ہے تو اس صورت حال کے پیش نظر ہمیں کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جس کی شریعت نے ہمیں اجازت نہیں دی ہے۔ خاندان میں جو صاحب بصیرت اور عقلمند حضرات ہیں، انہیں درمیان میں لا کر حالات کا جائزہ لیا جائے، اگر بچی کا کوئی قصور ہے تو اسے سمجھایا جائے، اگر سسرال والے قصور وار ہیں تو انہیں اپنے موقف اور روےے پر نظر ثانی کرنے کیلئے کہا جائے، اس طرح کے معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے صلح اور مل بیٹھنے میں خیر و برکت رکھی ہے۔ ایک موھوم صورت پر بنیاد رکھ کر اتنا بڑا اقدام نہ کیا جائے جس کے متعلق ہمیں قیامت کے دن باز پرس ہو۔ اسلام، ہمیں ایسے حالات میں حمل ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیتا، خاص طور پر جب چار ماہ سے زائد مدت کا حمل ہو اور اس میں روح پڑ چکی ہو تو اسے ضائع کرنا قتل ناحق کے مترادف ہے۔ ہاں اگر ایسی صورت حال سامنے آ جائے کہ وہ حمل بچی کیلئے جان لیوا ثابت ہونے کا اندیشہ ہو اور کوئی تجربہ کار، سمجھ دار ڈاکٹر کی رپورٹ پر اعتماد کرنے پر اسے ضائع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن صورت مسؤلہ میں اسے ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اس موقع پر ہم سائلہ کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ صبر سے کام لے، مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے، برادری کے ذریعے اس مسئلہ پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔